Education In Pakistan

Papers, Notes, Books & Help For Students

UPDATED EDUCATIONAL NEWS INTERVIEW HELP FOR ALL JOBS ONLINE BOOKS SCHOLARSHIPS AVAILABLE INTERNSHIP JOBS

Tag: 14 ارب خسارہ

Sindh Budget Detail 2017-18 سندھ کا 10 کھرب 43 ارب کا بجٹ پیش,تنخواہوں,پنشن میں 15 فیصد اضافہ,49 ہزار ملازمتیں,14 ارب خسارہ

Sindh Budget Detail 2017-18 سندھ کا 10 کھرب 43 ارب کا بجٹ پیش,تنخواہوں,پنشن میں 15 فیصد اضافہ,49 ہزار ملازمتیں,14 ارب خسارہ

پولیس میں 10 ہزار بھرتیوں، 25 ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل کرنیکا اعلان، تھرکول کیلئے 13 ارب ، محکمہ آبپاشی کیلئے 40 ارب، گندم کی سبسڈی کیلئے 5 ارب مختص، ٹیکس اہداف حاصل کر لیے ، مراد علی شاہ، اجلاس جمعرات تک ملتویوفاق زیادتی کر رہا ہے ، ادائیگیوں کے باوجود بجلی نہیں دے رہا، کے الیکٹرک نے تباہی مچا دی، 70 فیصد توانائی پیدا کرنے کے باوجود پورا سندھ عذاب میں ،الگ پاور پالیسی بنائینگے ، وزیر اعلیٰ کا بجٹ تقریر سے قبل لوڈ شیڈنگ پر سخت احتجاج کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ کا آئندہ مالی سال 2017-18 کے لیے 10 کھرب 43 ارب 18 کروڑ 56 لاکھ روپے کاٹیکس فری خسارے کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کردیا ۔ بجٹ خسارہ 14 ارب 32 کروڑ روپے ہو گا کیونکہ آمدنی کا تخمینہ 10 کھرب 28 ارب 86 کروڑ 53 لاکھ روپے لگایا گیا ہے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافہ اور مختلف شعبوں میں ٹیکس میں کمی گئی ہے ۔ 49 ہزار نئی نوکریاں دی جائیں گئی۔ ان میں سے 25 ہزار سے زائد اسامیاں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے لیے ہوں گی جو اس وقت سندھ میں کام کر رہی ہیں انہیں اب مستقل کر دیا جائے گا ۔ محکمہ پولیس میں 10 ہزار نئی بھرتیاں کی جائیں گی۔ پیر کو سندھ اسمبلی کا بجٹ اجلاس پون گھنٹے کی تاخیر سے شام پونے 4 بجے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی صدارت میں شروع ہوا ۔ تلاوت اور نعت کے بعد ایل او سی پر بھارتی جارحیت میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی فوجیوں، مظلوم کشمیریوں اور دیگر کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی ۔ سعودی عرب کے قونصل جنرل کراچی عبد اللہ عبدالدائم، روسی قونصل جنرل، امریکی قونصل خانے کے نمائندے سمیت مختلف ممالک کے سفارت کاروں نے بھی بجٹ اجلاس کی کارروائی دیکھی ۔ اسپیکر نے بجٹ سیشن کے لیے خورشید جونیجو، مراد علی شاہ سینئر، ایم کیو ایم کے سید سردار احمد اور مسلم لیگ فنکشنل کے مہتاب اکبر راشدی کو پینل آف چیئرمین بنایا ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے 4 بجکر 10 منٹ پر بجٹ تقریر کی اجازت مانگی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ یہ بات باعث مسرت ہے کہ ہم تاریخ میں پہلی بار 10 کھرب 43 ارب 15 کرو ڑ 56 لاکھ روپے کا آئندہ مالی سال 2017-18ء کا بجٹ پیش کر رہے ہیں ۔ آمدنی کا تخمینہ 10کھرب 28 ارب 86 کروڑ 65لاکھ 30ہزار روپے لگایاگیا ہے ۔ رواں سال آمدنی کا تخمینہ 854.5 ارب روپے تھا ، جبکہ صوبے کی کل وصولی 873.9 ارب روپے تھی۔ نان ٹیکس آمدنی کا تخمینہ 166.03 ارب روپے لگایا گیا تھا جبکہ نظر ثانی شدہ تخمینہ 159.29 ارب روپے ہے ۔رواں سال بجٹ کا تخمینہ 869.11 ارب روپے تھا ، جسے بڑھا کر 877.59 ارب روپے کر دیا گیا ہے ۔ غیر ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 572.76 ارب روپے لگایا گیا تھا لیکن نظر ثانی شدہ تخمینہ 606.96 ارب روپے ہے ۔ اس طرح غیر ترقیاتی اخراجات میں 34 ارب روپے اضافہ ہو ا ہے ۔ ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ 225 ارب روپے لگایا گیا تھا جبکہ نظر ثانی شدہ تخمینہ 210 ارب روپے ہے ۔ اس طرح ترقیاتی اخراجات میں 15 ارب روپے کی کٹوتی ہوئی ۔ اس سال کے آخر تک 88 فیصد ترقیاتی بجٹ استعمال کر لیا جائے گا جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 20 فیصد زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کا آئندہ مالی سال کا کل ترقیاتی بجٹ 3 کھرب 44 ارب روپے ہے ، 2 کھرب 44 ارب روپے صوبے کے اے ڈی پی کے لیے ہیں، جبکہ 30 ارب روپے اضلاع کے اے ڈی پی کے لیے ہیں ۔ غیر ملکی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 42 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ وفاق کی فنڈنگ سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 27.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ اے ڈی پی کے فنڈز میں سے 2158 جاری اسکیموں کے لیے ایک کھرب 51 ارب 83 کروڑ روپے ، جبکہ نئی 816 اسکیموں کے لیے 92 ارب 16 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کی ترقیاتی اسکیموں کیلئے 10ارب روپے ، سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے لیے 27 کروڑ 70 لاکھ روپے ، سندھ ریونیو بورڈ کے لیے 29 کروڑ روپے ، سماجی بہبود کے لیے 29 کروڑ روپے ، محکمہ کھیل اور نوجوانان کے امور کے لیے 2 ارب 10 کروڑ روپے ، محکمہ خصوصی ترغیبات کے لیے ڈھائی ارب روپے ، تھرکول انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ کے لیے 13 ارب 75 کروڑ روپے ، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کے لیے 3 ارب 20 کروڑ روپے ، محکمہ خواتین کی ترقی کے لیے 42 کروڑ 60 لاکھ روپے ، محکمہ ورکس اینڈ سروسز کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 26 ارب روپے ، محکمہ تعلیم کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 21 ارب 12 کروڑ 28 لاکھ روپے ، محکمہ توانائی کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 3 ارب روپے ، محکمہ ماحولیات اور کوسٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے لیے 40 کروڑ روپے ، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 14 کروڑ روپے ، محکمہ خوراک کے لیے 10 کروڑ روپے ، محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے لیے 84 کروڑ روپے ، گورنر سیکرٹریٹ کے لیے 11 کروڑ 70 لاکھ روپے ، محکمہ صحت کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 15 ارب 50 کروڑ روپے ، محکمہ داخلہ کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 2 ارب 45 کروڑ روپے ، محکمہ انسانی حقوق کے لیے 3 کروڑ 60 لاکھ روپے ، محکمہ صنعت کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 2 ارب 74 کروڑ 50 لاکھ روپے ، محکمہ اطلاعات کے لیے 20 کروڑ روپے ، محکمہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے ایک ارب 38 کروڑ روپے ، محکمہ آب پاشی کے لیے 40 ارب روپے ، محکمہ کچی آبادی کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ وفاقی حکومت کے خزانے کو 75 فیصد مہیا کرتا ہے لیکن افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ہر سال وفاقی حکومت کی طرف سے اپنے حصے کی رقم کم ملتی ہے ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے 9 ویں این ایف سی ایوارڈ میں ناکامی وفاقی حکومت کی اعلیٰ سطح پر خراب کارکردگی کا ثبوت ہے ۔ گزشتہ 10 ماہ کے دوران ہمیں وفاق سے 456 ارب روپے ملنے چاہئے تھے لیکن اب تک 382 ارب روپے ملے ہیں ۔ اس سال کے آخر تک توقع ہے کہ وفاقی حکومت سے ہمیں 95 ارب روپے کم ملیں گے ۔ وفاقی حکومت کے پبلک سیکٹر پروگرام میں سے سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 12.12 ارب روپے ملنے تھے ، لیکن صرف 5.9 ارب روپے مل سکے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ نے اپنی ٹیکس آمدنی کے اہداف حاصل کر لیے ہیں ۔ تعلیم کے لیے سندھ کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 2 کھرب 2 ارب 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ رواں مالی سال کے ایک کھرب 63 ارب 12 روپے کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہے ۔ یونیورسٹیز اور دیگر اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے 5 ارب روپے کی گرانٹ مختص کی گئی ہے جبکہ تعلیم کے شعبے کے لیے 17.23 ارب روپے ترقیاتی بجٹ اس کے علاوہ ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے دوران محکمہ تعلیم کی 48 اہم اسکیموں کو مکمل کیا گیا جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران 50 اسکیمیں مکمل کی جائیں گی ۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ نے آئندہ مالی سال کے دوران صوبے کے انتہائی غریب لوگوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے مشروط کیش ٹرانسفر اسکیم کے تحت ساڑھے 3 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ صوبے میں امن وامان کے قیام کے لیے سندھ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 92 ارب 91 کروڑ روپے مختص کیے ہیں جو رواں سال کے 84 ارب 26 کروڑ روپے کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہیں ۔ سید مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ صحت کے لیے ایک کھرب 32 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ رواں سال کی مختص کردہ رقم 79.88 ارب روپے سے 26 فیصد زیادہ ہیں ۔ صحت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مزید 15.50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ اس طرح صحت کا مجموعی بجٹ ایک کھرب 15 ارب85 کروڑ روپے ہے ۔ سندھ میں سڑکوں کی تعمیر کے لیے آئندہ سال 25 ارب 77 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ روڈ انفرا اسٹرکچر کی مرمت کے لیے 5 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔ 8.8 ارب روپے کی لاگت سے کراچی ، ٹھٹھہ دو رویہ سڑک کو آئندہ سال مکمل کیا جائے گا ۔ حکومت سندھ نے کراچی سرکلر ریلوے کے گرد چار دیواری کی تعمیر کے لیے آئندہ سال 24 کروڑ 10 لاکھ روپے مختص کر دیے ہیں ۔ کراچی سرکلر ریلوے کو سی پیک کا حصہ بنایا گیا ہے اور سی پیک کے تحت اس میں 2.4 ارب امریکی ڈالرز کی سرمایہ کاری ہو گی۔ سندھ کے بجٹ میں زراعت اور ماہی گیری کے شعبوں کے لیے متعدد مراعات کا اعلان کیا گیا ہے ۔ آئندہ مالی سال کے دوران گندم کی سبسڈی کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنی تقریر کے اختتام میں کہا کہ اپوزیشن کو چاہیے تھا کہ وہ یہاں بیٹھ کر بجٹ سنتی اور بجٹ تقاریر میں جو مناسب تنقید ہوتی وہ کر لیتی ، لیکن ایسا نہیں کیا ۔ اگر تعمیری تقاریر ہوں گی تو ہم اس کا مثبت جواب دیں گے ، بے جا تنقید پر افسوس ہوگا۔ ہماری خواہش ہے کہ 5 دن میں تمام ارکان بجٹ بحث میں حصہ لیں ۔ اس لیے میں نے اپنے پارلیمانی اجلاس میں پارلیمانی قائد نثارکھوڑو کو تجویز دی ہے کہ پہلے دن حکومتی 15 ارکان تقریر میں حصہ لیں ، اسی طرح اپوزیشن کے 15 ارکان بھی تقریر میں حصہ لیں ، تو روزانہ 30 ارکان ہوتے ہیں اور اس طرح ہم 5 دن میں 150 ارکان آسانی کے ساتھ بحث میں حصہ لے سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے تقریر کے اختتام پر پارٹی قیادت آصف علی زرداری، بلاول بھٹو ، اسپیکر سندھ اسمبلی، صوبائی وزرائ، ارکان اسمبلی، سرکاری حکام ، میڈیا کے نمائندوں و دیگر کا شکریہ ادا کیا ۔ بعد ازاں وزیر اعلیٰ سندھ نے سندھ مالیاتی بل 2017-18 متعارف کرایا اور اس بل پر 16 جون کو بحث ہو گی ۔ بعد ازاں اسپیکر نے اجلاس جمعرات کو صبح 11 بجے تک کے لیے ملتوی کیا۔ اسپیکر نے ارکان کو تلقین کی کہ وہ 2 دن میں بجٹ کا مطالعہ کرکے آئیں اور بحث میں حصہ لیں۔ کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیر کو سندھ اسمبلی میں بجٹ تقریر شروع کرنے سے پہلے صوبے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر سخت احتجاج کیا اور کہا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے پورا سندھ عذاب میں ہے ، سندھ اپنی الگ پاور پالیسی بنائے گا ۔ پاور پالیسی حتمی مراحل میں ہے ۔ وفاق ہمارے صوبے کے ساتھ زیادتی کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم 70 فیصد توانائی پیدا کرتے ہیں ۔ آئین کے تحت پہلا حق اس صوبے کا ہوتا ہے ، جو توانائی اور گیس پیدا کرتا ہے ، لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ 20 ، 20 گھنٹے بجلی بند ہوتی ہے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ سندھ کے لوگ بل ادا نہیں کرتے ۔ انہوں نے ایوان میں حیسکو اور سیبکو کے ‘‘ نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس ’’ پیش کیے اور کہا کہ یہ ثبوت ہے کہ ہم نے بل دیے ہوئے ہیں ۔ فروری 2017 تک ہم نے 27 ارب روپے بلوں کی مد میں ادا کیے ۔ اس کے باوجود بجلی نہیں ہے ، جس پر میں سخت اعتراض کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے کراچی میں تباہی مچا دی ہے ۔ انہوں نے دو پاور پلانٹس لگائے تھے لیکن وہ کہتے ہیں کہ فنی خرابی کے باعث یہ دونوں پلانٹ بند پڑے ہیں ۔ یہ لوگ نہ صرف غلط بیانی کر رہے ہیں بلکہ سندھ کے ساتھ خاص طور پر زیادتی کر رہے ہیں ۔ کے الیکٹرک نے ایک میگاواٹ بجلی بھی سسٹم میں نہیں ڈالی ہے ۔ بعد ازاں انہوں نے بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ سندھ پاور پالیسی مستقبل میں سندھ کی ضروریات کا احاطہ کرے گی ۔ سندھ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی بھی قائم کی جائے گی ۔ جس سے سندھ کے توانائی کے مسائل حل کیے جا سکیں گے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ آئندہ سال متبادل توانائی کے مختلف منصوبے شروع کیے جائیں گے ۔ 285 بنیادی مراکز صحت کو بجلی فراہم کی جائے گی ۔ یہ بجلی سولر انرجی سے فراہم کی جائے گی ۔ اس منصوبے پر 45 کروڑ 40 لاکھ روپے کی لاگت آئے گی ۔ میرپور خاص ، بدین ، سانگھڑ اور کراچی کے دیہی علاقوں کے ممکنہ صارفین کو 213 گھریلو بائیو گیس پلانٹس میسر کیے جائیں گے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے یہ بھی اعلان کیا کہ عالمی بینک کے تعاون سے 13 ارب روپے کی لاگت سے سندھ ریونیو ایبل انرجی ڈیولپمنٹ پروجیکٹ اگلے سال شروع کیا جائے گا ، جس میں سندھ حکومت اپنے حصے 2 ارب 60 کروڑ روپے ادا کرے گی ۔ شہروں میں مکانات کی چھتوں پر شمسی پی وی ڈیمانسٹریشن پاور پلانٹس نصب کیے جائیں گے ۔ اس منصوبے پر 50 کروڑ روپے کی لاگت آئے گی۔ قبل ازیں سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں بجٹ 2017-18 کی منظوری دی گئی۔

Education In Pakistan © 2016