Education In Pakistan

Papers, Notes, Books & Help For Students

UPDATED EDUCATIONAL NEWS INTERVIEW HELP FOR ALL JOBS ONLINE BOOKS SCHOLARSHIPS AVAILABLE INTERNSHIP JOBS

Tag: کھرب

39 کھرب 36ارب کا بجٹ تنخواہوں پنشن میں 10فیصد اضافہ

39 کھرب 36ارب کا بجٹ تنخواہوں پنشن میں 10فیصد اضافہ

39 کھرب 36ارب کا بجٹ تنخواہوں پنشن میں 10فیصد اضافہ

کم از کم پنشن 6ہزار، اجرت 12ہزار ، فون کالز، یو پی ایس، سولر لیمپ، کھاد، ادویات سستی، جنریٹر، ٹی وی، اے سی، لوہا، خوردنی تیل، درآمدی گاڑیاں اور فضائی سفر مہنگا، شادی ہالز پر ٹیکس 5فیصدمقرر جائیداد کی خریدو فروخت پر ایڈوانس ٹیکس عائد،گاڑی کی رجسٹریشن، بینک سے رقم نکلوانے، پرچون فروشوں پر بھی ٹیکس، بجلی وگیس کے کمرشل کنکشن کیلئے این ٹی این کی شرط لازمی ہوگی، اسحاق ڈاراسلام آباد : آئندہ مالی سال 2014-15ء کا 39 کھرب 36ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10فیصد اضافہ کردیاگیا جبکہ سگریٹ ،سی این جی ،سیمنٹ، پنکھے، ٹی وی ، اے سی ،لوہا ،خوردنی تیل اور موبائل فونز مہنگے ہو گئے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں نئے مالی سال برائے 15-2014 کا بجٹ پیش کیا ، وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہمیں معیشت کی بحالی کے چیلنج کا سامنا ہے ، وزیراعظم کے مشکل فیصلوں کی بدولت ملکی معیشت کی سمت درست ہو چکی ہے۔ ملک ترقی کی جانب گامزن ہے، دعویٰ نہیں کرونگا کہ تمام منزلیں طے کر لی ہیں مگر پاکستان پہلے سے بہت زیادہ توانا ہے، اب ترقی کا سفرجاری رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کی رفتار 4.1فیصد ہو گئی۔ فی کس آمدنی1339 سے بڑھ کر 1386 ڈالر ہو گئی ، یکم جولائی سے 31مئی تک مہنگائی 8.6 فیصد رہی، بجٹ میں محصولات کا ہدف 2810ارب جبکہ خسارہ 1710 ارب رہا ۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دینے کا اعلان کیا جبکہ پنشن میں 10 فیصد اضافہ کر دیاگیا۔ ایک سے 15گریڈ کے ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں 5 فیصد اضافہ ،1 سے 4 گریڈ کے ملازمین کیلئے انکریمنٹ ،گریڈ 1 سے 15 کےفکسڈ میڈیکل الاؤنس میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ کے عہدے کو گریڈ 16 سے 17 میں اپ گریڈ کر دیا گیا۔ کم از کم پنشن 5ہزار سے بڑھا کر6ہزار اور مزدور کی اجرت10ہزار سے بڑھا کر12ہزار روپے کردی گئی ۔ ملک کی معاشی ترقی کا ہدف 5.1فیصد جبکہ صنعتی ترقی کا ہدف 6.8فیصد رکھا گیا ہے، برآمدات کا ہدف 27ارب ڈالر جبکہ درآمدات کا ہدف 44.2ارب ڈالر مقرر کیا گیا۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق ایف بی آرنے11ماہ میں1955 ارب روپے ٹیکس وصول کیا۔سی این جی پر 17فیصد سیلز ٹیکس کی تجویز ہے۔اسٹیل کی مصنوعات،درآمدی گاڑیاں ،جنریٹر مہنگے ہو گئے۔ ڈاکٹرز ،وکلاء اور انجینئرز سمیت پروفیشنل پر دس فیصد انکم ٹیکس لگادیا گیا،یو پی ایس سستے ہوں گے۔1800سی سی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ سگریٹ اور سگار ،پنکھے،فریزر،لیپ ٹاپ بھی مہنگے ہو گئے ۔ بیرون ملک ہوائی سفر پراکانومی کلاس کی ٹکٹوں کو ایڈوانس ٹیکس سےمستثنٰی قرار دے دیا گیا۔ فرسٹ اور کلب کلاس کی ٹکٹوں پر ٹیکس ادا کرنیوالے مسافروں سے 3فیصد اور ٹیکس ادا نہ کرنیوالوں سے 6فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ایک لاکھ روپے ماہانہ بجلی کے بل پر 7.5 فیصد ایڈوانس ٹیکس کے طور پر وصول کیاجائےگا ، این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو 1720 ارب روپے دئیے جائیں گے۔ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 816 ارب روپے رکھا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مالیاتی اداروں کا پاکستان پراعتماد بحال ہوا، ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے کے منافع اور حصص کی خریداری پر 5 فیصد اضافی ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جائیگا۔ کسٹم ڈیوٹی کو 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کیا جارہا ہے۔ تمباکو کی حوصلہ شکنی کیلئے ٹیکس میں اضافہ کیا جارہا ہے۔کراچی لاہور موٹر وے کے لئے رواں مالی سال کے لئے 30 ارب رکھے گئے ہیں۔ ریلوے نظام کی بہتری کے لئے رواں بجٹ میں 77 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں ،سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ٹیکسوں کی مد میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا تاہم ٹیکس ریٹرن نہ جمع کروانے والوں پر گاڑی کی رجسٹریشن اور بینک سے رقم نکلوانے پر اضافی ٹیکس لاگو ہوگا۔ سالانہ ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والوں سے غیرمنقولہ جائیدادکی خریداری پردوفیصد تک ، غیرمنقولہ جائیدادکی فروخت پرایک فیصد اورشیئرزکی خریداری پر5فیصد ایڈوانس ٹیکس وصول کیاجائے گا۔بجلی وگیس کے کمرشل کنکشن کیلئے این ٹی این کی شرط لاگوہوگی، 20ہزارروپے بجلی کابل دینے والے پرچون فروشوں سے 5فیصدجبکہ اوپروالوں سے7.5 فیصدسیلزٹیکس لینے کافیصلہ کیا ہے، وصولی بجلی بلوں کے ذریعے ہوگی۔ ٹیکسٹائل، چمڑے کی صنعت، قالین، سرجری اورکھیلوں پرسیلزٹیکس کی چھوٹ کاخاتمہ کردیاہے،لوہے کی صنعت پرسیلز ٹیکس 4روپے فی یونٹ بجلی سے بڑھاکر7روپے کردیاہے جبکہ ایک روپے فی یونٹ ودہولڈنگ ٹیکس بھی دیناہوگا، اس کے علاوہ امپورٹ ڈیوٹی پرچھوٹ حاصل کرنے والی 40فیصداشیا پرماسوائے پٹرولیم مصنوعات،کھاد، فوڈ کے ایک فیصدڈیوٹی عائدکردی گئی ہے۔ کارپوریٹ ٹیکس34 فیصد سے کم کرکے 33 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ ٹیلی فون سروسز پر ودہولڈنگ انکم ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کرکے 14 فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔بیس لاکھ سے کم کی مالیت کی جائیداد، بیرون ملک پاکستانی اور سرکاری اسکیم ایڈوانس پراپرٹی ٹیکس سے مستثنٰی ہوں گے۔ اسٹیٹ بینک کے ذریعے برآمدی قرضے پر مارک اپ کی شرح کو 9.4 فیصد سے کم کرکے 7.5 فیصدکیاجائیگا۔ شادی ہالز پر ٹیکس کو کم کرکے 5 فیصد، معذور افراد کے لئے 10 لاکھ تک کی آمدنی پر ٹیکس میں 50 فیصد کی کمی اور ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر کی ترقی کے لئے ایف ای ڈی کی شرح 19.5 فیصد سے کم کرکے 18.5 فیصد کی جارہی ہے۔

39 کھرب 36ارب کا بجٹ تنخواہوں پنشن میں 10فیصد اضافہ

Education In Pakistan © 2016