Education In Pakistan

Papers, Notes, Books & Help For Students

UPDATED EDUCATIONAL NEWS INTERVIEW HELP FOR ALL JOBS ONLINE BOOKS SCHOLARSHIPS AVAILABLE INTERNSHIP JOBS

Tag: محکمہ تعلیم میں بھرتیاں ، این ٹی ایس ٹیسٹ میں سیاسی اثرورسوخ اور بیوروکریسی کے ہاتھ کھانے کا انکشاف

محکمہ تعلیم میں بھرتیاں ، این ٹی ایس ٹیسٹ میں سیاسی اثرورسوخ اور بیوروکریسی کے ہاتھ کھانے کا انکشاف

محکمہ تعلیم میں بھرتیاں ، این ٹی ایس ٹیسٹ میں سیاسی اثرورسوخ اور بیوروکریسی کے ہاتھ کھانے کا انکشاف

محکمہ تعلیم میں ایجوکیٹرز ادارے اے ای اوز(اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز) کی بھرتی میں این ٹی ایس ٹیسٹ کے دوران بھی ’’ اندر کھاتے‘‘ سیاسی اثرو رسوخ اور بیوروکریسی کے ہاتھ دکھانے کا انکشاف سامنے آیا ہے جس میں من پسند امیدواروں کو این ٹی ایس کے ٹیسٹ اور انٹرویو کے کے مخصوص نمبرز الاٹ اور وصول کے لئے خفیہ طاقتیں سرگرم ہو گئی ہیں جس کی بنا پر این ٹی ایس ٹیسٹ کے لئے اپلائی کرنے والے لاکھوں امیدواروں کی امیدیں بھرتی سے پہلے ہی خاک میں ملنے کا امکان ظاہر ہو رہی ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع نے بتایا ہے کہ 50 ہزار کے قریب ایجوکیٹرز کو 5 سالہ کنٹریکٹ پر بھرتی کیا جا رہا ہے جس میں چند سو اے ای اوز بھی بھرتی ہوں گے۔ ذرائع بتایا ہے کہ ایجوکیٹرز کی 50 ہزار کے قریب اسامیوں کے لئے 5 لاکھ 75 ہزار سے زائد امیدواروں نے درخواستیں دے رکھی ہیں۔ جس میں ایجوکیٹرز گریڈ 9 میں بھرتی کے لئے ایم اے ، بی ایڈ گریڈ 14 میں بھرتی کے لئے ایم اے بی ایڈ اور گریڈ 16 میں بھرتی کے لئے ایم فل کی ڈگریاں اور تجربہ کی ڈیمانڈ کی گئی ہے جبکہ ایجوکیٹرز کے ساتھ ہی صوبے کی تاریخ میں پہلی بار اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز ( اے ای اوز) براہ راست بھرتی کیے جا رہے ہیں جس کے لئے تعلیمی معیار ماسٹر ڈگری رکھا گیا ہے۔ جس میں نیشنل ٹیسٹنگ سروس ( این ٹی ایس) کے ادارہ نے امیدواروں سے درخواستوں کو براہ راست وصول کرنے کی بجائے ٹی سی ایس کے ذریعے وصول کی ہیں۔ جس میں ہر امیدوار سے ایک آسامی کے لئے درخواست دینے پر 475 روپے فیس وصول کی گئی ہے جبکہ ٹی سی ایس کورئیر کے 180 روپے فی رجسٹری کے چارج بھی کے امیدوار کو الگ سے برداشت کرنا پڑے ہیں۔ جس میں تقریباً ہر امیدوار نے تین تین اسامیوں کے لئے درخواستیں جمع کرائی ہیں جس میں گریڈ 9 ،گریڈ 14 اور گریڈ 16 کی اسامیوں کے لئے اپلائی کیاگیا ہے۔ جس میں لاہور میں 1300 سے زائد ایجوکیٹرز بھرتی ہوں گے جبکہ دیگر اضلاع سمیت صوبے بھر میں 50 ہزار کے قریب ایجوکیٹرز بھرتی کیے جا رہے ہیں اور اس طرح این ٹی ایس ٹیسٹ کے نام پر امیدواروں سے 27 سے 28 کروڑ روپے وصول کئے گئے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع کے مطابق این ٹی ایس ادارہ کو ایجوکیٹرز کی بھرتی کے لئے 30 مئی تک ٹاسک دیا گیا ہے جس میں این ٹی ایس نے پونے چھ لاکھ امیدواروں سے ٹیسٹ اور انٹرویو کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اس میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں امیدواروں سے ٹیسٹ اور انٹرویو لیے جا رہے ہیں جس میں امیدواروں کو این ٹی ایس ٹیسٹ میں میٹرک کے 10 نمبر، ایف اے کے 15 اور بی اے کی ڈگری کے بھی 15 نمبر دئیے جانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ اسی طرح ایم اے کی ڈگری کے 20 نمبر اور پروفیشنل ڈگری کے 20 نمبرز اور این ٹی ایس ٹیسٹ کے 20 نمبر اور انٹرویو پاس کرنے پر 5 نمبر الاٹ کیے جا رہے ہیں۔ اس میں امیدواروں کے اکیڈمک اور پروفیشنل ڈگریوں کے 75 نمبروں کے ساتھ سب سے زیادہ اہمیت مگر این ٹی ایس ٹیسٹ کے 20 اور انٹرویو کے 5 نمبر ہوں گے جس میں این ٹی ایس ادارہ نے ٹیسٹ اور انٹرویو پاس کرنے والے امیدوار کو این ٹی ایس ٹیسٹ میں کامیابی کی کلیئرنس دینی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ امیدوار کے اکیڈمک اور پروفیشنل ڈگریوں میں این ٹی ایس کے نمبروں کو شامل یا الاٹ کروانے میں ’’ اندر کھاتے ‘‘ سفارشی ہاتھ سرگرم ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے جس میں سیاسی اثرو رسوخ کے ساتھ بیوروکریسی کی طاقتیں بھی اندر کھاتے سرگرم نظر آ رہی ہیں اور اپنے من پسند امیدواروں کو کامیاب کروانے کے لئے سرتوڑ زور لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ جس کی بنا پر ایجوکیٹرز اور اے ای اوز کے عہدہ پر بھرتی کے خواہش مند پروفیشنل ڈگریاں ہولڈرز لاکھوں امیدواروں کی خواہشیں دم توڑنے لگی ہیں،اس صورتحال پرامیدواروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تعلیم کے شعبہ میں نوکری حاصل کرنے کے لئے پروفیشنل ڈگریاں بھی حاصل کر رکھی ہیں ایک طرف اسامیاں کم ہیں تو دوسری جانب سیاسی اور بیوروکریسی کی سفارشوں نے ہاتھ دکھا دیا ہے۔ اب تو اوور ایج ہو جائیں گے اور زندگی بھر محکمہ تعلیم تو کیا کسی دوسرے محکمہ میں بھی اپلائی کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ جبکہ اس احوالے سے محکمہ تعلیم کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ بھرتی مکمل طور پر صاف اور شفاف طریقہ سے کی جا رہی ہے اور اس میں این ٹی ایس ایک الگ ادارہ اور اس کی شفافیت میں کوئی کسی قسم کا شک و شبہ نہ ہے اور این ٹی ایس کے ٹیسٹ میں کسی قسم کی سفارش یا سیاسی ہاتھ آڑے نہیں آتا۔ امیدواروں کومحض خام خیالی ہے اور بھرتی مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر ہو گی۔ تاہم اسامیوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔

Education In Pakistan © 2016