Education In Pakistan

Papers, Notes, Books & Help For Students

UPDATED EDUCATIONAL NEWS INTERVIEW HELP FOR ALL JOBS ONLINE BOOKS SCHOLARSHIPS AVAILABLE INTERNSHIP JOBS

Day: June 3, 2017

وزیر اعلی پنجاب نے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اساتذہ کرام کو اپ گریڈ کرنے کی ہدایت

وزیر اعلی پنجاب نے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اساتذہ کرام کو اپ گریڈ کرنے کی ہدایت

صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے 19 کھرب70 ارب اور 70 کروڑ روپے حجم پر مشتمل پنجاب کا ٹیکس فری بجٹ پیش کردیا۔ مقامی حکومتوں کیلئے 361 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان۔ نئی کاروباری فرموں کیلئے رجسٹریشن فیس ختم کردی گئی۔ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے بتایا کہ وہ جو صوبہ کا پانچواں بجٹ پیش کر رہی ہیں یہ صوبہ کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ ہے۔ مالی سال 2017-18ء میں عمومی محصولات کا تخمینہ 1502 ارب ہے – وفاق سے پنجاب کو 1154 ارب 18 کروڑ روپے کی آمدن متوقع ہے ۔ صوبائی ریونیو کی مد میں 348 ارب 30 کروڑ روپے کا تخمینہ ہے جس میں ٹیکسز کی مد میں 230 ارب 98 کروڑ روپے اور نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 117 ارب روپے شامل ہیں۔ مالی سال 2017-18ء میں جاریہ اخراجات کا کل تخمینہ1021 ارب روپے ہے ۔ جس میں تنخواہوں کی مد میں 258 ارب روپے، پنشن کی مد میں 173 ارب روپے، مقامی حکومتوں کے لئے 361 ارب روپے اور سروس ڈیلوری اخراجات کے لئے 228 ارب 10 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ آئندہ مال سال میں تعلیم، صحت، واٹر سپلائی اور سیوریج ، ویمن ڈیولپمنٹ اور سوشل ویلفیئر کے لئے مجموعی طور پر 201 ارب 63 کروڑ روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے جو کہ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کا 32 فیصد ہے۔ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب نے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے اساتذہ کرام کو اپ گریڈ کرنے کی ہدایت کی ہے جس کے تحت پرائمری سکول ٹیچر پی ایس ٹی کو گریڈ 9 سے اپ گریڈ کر کے گریڈ 14 ، ایلیمنٹری سکول ٹیچر (ای ایس ٹی ) کو گریڈ 14سے 15 اور گریڈ 15 سے پہلے سے موجود ای ایس ٹی اساتذہ کو گریڈ 16 میں اپ گریڈ کیا جائے گا۔ گریڈ 16 میں پہلے سے موجود ای ایس ٹی اساتذہ کرام کو دو اضافی سالانہ انکریمنٹس دی جائیں گی اور یہی سہولت تمام ایس ایس ٹی اساتدہ کو بھی دی جائے گی- اسی طرح غیر رسمی تعلیم کے اساتذہ کے اعزازیہ میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ اس اپ گریڈیشن پیکیج کی تفصیلات جلد ہی نوٹیفائی کی جائیں گی۔ اس پیکیج پر آئندہ مالی سال میں یکم جنوری 2018 سے عملدرآمدشروع ہو جائے گا اور تقریباً 9 ارب روپے سالانہ کی مالیت کے اس پیکیج سے مجموعی طور پر تقریبا تین لاکھ سے زائد اساتذہ کرام مستفید ہوں گے۔آئندہ مالی سال میں پنجاب صاف پانی پروگرام کے لئے تقریباً 25 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ یہ منصوبہ انسانی صحت کے حوالے سے ایک انقلاب آفرین ہے۔ علاوہ ازیں 30 کروڑ روپے کی لاگت سے صوبے بھر میں دستی نلکوں کے منصوبے پر بھی کام کا آغاز کیا جائے گا۔ مجموعی طور پر ان منصوبوں کے لئے 5 ارب 70 کروڑ روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔ اپنا روزگار سکیم کے تحت 50 ہزار بے روزگار نوجوانوں کو گاڑیوں کی فراہمی کے لئے 35 ارب روپے رکھے گئے ہیں، گاڑیاں اورنج کیب سکیم کے تحت دی جائیں گی۔ فوڈ اتھارٹی کے کام کو اہمیت کے پیش نظر اس کا دائرہ کار صوبے کے ہر شہر تک بڑھانے کے پروگرام پر عملدرآمد کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ اتھارٹی کے اس توسیعی پروگرام کے لئے آئندہ مال سال میں 2 ارب 70 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔آبپاشی ، لائیوسٹاک، جنگلات و ماہی پروری اور خوراک کے لئے مجموعی طور پر 140 ارب 50 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ لاہور میٹروٹرین منصوبے کے لئے آئندہ مالی سال میں چینی ایگزم بنک 94 ارب روپے کے وسائل فراہم کرے گا۔ انہوںنے بتایا کہ ریجنل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت آئندہ مالی سال میں اس پروگرام کے لئے 5 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے صوبے میں مزدوروں کی کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد حکومت پنجاب کے مختلف اداروں میں ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے کارکنوں کا ماہانہ معاوضہ بھی پندرہ ہزار روپے سے کم نہیں ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ لیبر قوانین کا موثر اطلاق، جبری مشقت کا خاتمہ ، صحت مند ٹریڈ یونین سرگرمیوں کا فروغ اور تعلیم و طبی سہولتوں میں اضافہ ، ٹرانسپورٹ، شادی گرانٹ، بچوں کے لئے تعلیمی وظائف وغیرہ ہماری اولین ترجیحات میں سے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ اقلیتی برادری کی بہبود کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مزید 1 ارب 16 کروڑ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ اسی طرح حکومت پنجاب نے نئی کاروباری فرموں کے لئے ہرقسم کی رجسٹریشن فیس کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب حکومت آئندہ مالی سال میں 25 ارب روپے مالیت کے انویسٹمنٹ بانڈ جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مارکیٹ میں خرید و فروخت کے ساتھ ساتھ ان بانڈز میں ادارو ںاو ر عوام الناس کو بھی سرمایہ کاری کی اجازت ہو گی۔ ان بانڈز کے اجراء اور ان سے حاصل ہونے والی رقوم کے ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونے سے ملک میں بچت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ انہوںنے کہا کہ حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ایڈہاک الاؤنس 2010 ء کو ضم کرنے کے بعد 10 فیصد اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن بھی 10 فیصد کی شرح سے بڑھائی جا رہی ہے ۔ اس طرح سرکار ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز کا ایک جامع ریویو کرنے کیلئے حکومت پنجاب ایک پے کمشن کے قیام کا بھی اعلان کرتی ہے۔یہ کمشن تمام شعبہ جات کا جامع ریویو کر کے اگلے بجٹ کے لئے تنخواہوں اور الاؤنسز کے حوالے سے اپنی تجاویز حکومت کو پیش کریگا۔ پے کمیشن اگلے بجٹ کیلئے تنخواہوں اور الائونسز کے حوالے سے تجاویز پیش کریگا۔ آئندہ سال فیصل آباد میں میٹرو بس کا منصوبہ شروع کیا جائے گا۔ توانائی اور آبپاشی کے لئے 59 ارب 17کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران ریجنل ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد پنجاب کے پسماندہ اضلاع میں انکی مقامی ضروریات کے مطابق مختلف نوعیت کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے ۔ آئندہ مالی سال میں اس پروگرام کے لئے پانچ ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں صوبے کے مالی سال 2017-18ء کے بجٹ کی منظوری دیدی گئی۔ پنجاب کابینہ نے بجٹ کی تیاری میں دن رات کام کرنے پر متعلقہ وزرائ، چیف سیکرٹری اور متعلقہ محکموں کے افسران کو خراج تحسین پیش کیا۔ نئی کاروباری فرموں کیلئے رجسٹریشن فیس ختم کر دی گئی ہے۔

Education In Pakistan © 2016