Education In Pakistan

Papers, Notes, Books & Help For Students

UPDATED EDUCATIONAL NEWS INTERVIEW HELP FOR ALL JOBS ONLINE BOOKS SCHOLARSHIPS AVAILABLE INTERNSHIP JOBS

Pakistan Budget Detail 2017-18 سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی دو الگ الگ تجاویز

ADVERTISEMENT

Pakistan Budget Detail 2017-18 سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی دو الگ الگ تجاویز

4700 ارب روپے سے زائد تخمینہ کا وفاقی بجٹ کل جمعہ کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوگا جس میں وفاقی بجٹ 2017-18 کی منظوری دی جائے گی۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کی صدارت میں گزشتہ روز اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں انہیں معاشی ٹیم نے بجٹ کے خدوخال کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا انفراسٹرکچر، سماجی شعبہ کی ترقی اور عوامی بہتری کے منصوبے حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ بجٹ کی حکمت عملی اس اہم مقصد کو پانے کا اہم ذریعہ ہے۔ ہماری حکومت نے انفراسٹرکچر کی ترقی پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے اور سماجی سیکٹرز کو بھی اہمیت دی جارہی ہے۔ 2012-13 کے مقابلہ میں اب ترقیاتی بجٹ پر تین گنا اضافہ کردیا گیا جو غیر معمولی ہے۔ وفاقی حکومت نے آزاد جموں وکشمیر‘ گلگت بلتستان اور فاٹا پر بھی توجہ دی ہے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار‘ معاون خصوصی ہارون اختر خان اور دوسرے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ بجٹ کے نمایاں خدوخال میں 1001 ارب روپے کا وفاقی ترقیاتی پروگرام ہے جبکہ 1112 ارب روپے صوبوں کا ترقیاتی پروگرام ہوگا۔ بجٹ میں کسٹمز سائیڈ پر بھاری ریونیو اقدامات ہوں گے ”نان فائلرز“ کے لئے بجلی‘ گیس کے کنکشن لینے اور درجنوں دوسرے امور پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں کو بڑھایا جائے گا۔ کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ کا ہدف 3.1 فیصد جبکہ بجٹ خسارہ کا ہدف قریباً 4 فیصد رکھے جانے کی توقع ہے۔ ایف بی آر ریونیو ہدف 4 ہزار ارب روپے سے زائد رکھا جائے گا۔ سبسڈیز کے لئے 330 ارب روپے اور ٹریٹ سروسنگ کے لئے 1800 ارب روپے رکھے جانے کی توقع ہے۔ درآمدات جن میں کھانے پینے کی اشیائ، چاکلیٹ شامل ہے پر ڈیوٹی بڑھائی جائے گی۔ ائر کنڈیشنرز، کولنگ آلات پر بھی ڈیوٹی بڑھے گی۔ سرکاری ملازمین کو ریلیف دیا جائے گا۔ پنشنرز کو بھی اضافہ دیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں 10سے 20 فیصد تک اضافہ کیا جائے گا۔ وفاقی کابینہ حتمی فیصلہ کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی دو الگ الگ تجاویز زیر غور ہیں۔ دس فیصد اضافے کے بعد پرانا ایڈہاک ضم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جارہا ہے، جبکہ ایڈہاک ضم کرنے کے بعد موجودہ تنخواہ میں10فیصد اضافے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔ سبسڈی اور گرانٹ کیلئے 230ارب روپے مختص کرنے کی بھی تجویز تیار ہے۔ دفاع بجٹ 940 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سب سے زیادہ 118 ارب روپے سبسڈی بجلی کے شعبے کو دینے کی تجویز پر غور کیا جارہا ہے، جبکہ بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 123 ارب مختص کرنے کی تجویز زیرغور ہے۔تاہم حتمی فیصلہ جمعہ کے روزیر اعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں کیا جائیگا۔رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت کا کل بجٹ 1667.94 ارب،سندھ کا 963.34 ارب،خیبرپی کے حکومت کا 574.54 ارب اور بلوچستان حکومت کا آئندہ مالی سال کا بجٹ 268.45 ارب روپے کے قریب ہونے کا امکان ہے۔پنجاب کے بجٹ میں غیر ترقیاتی اخراجات بڑھ کر 985.94 ارب جبکہ ترقیاتی بجٹ 550 ارب روپے سے بڑھ کر 682 ارب روپے کی تجویز سامنے آئی ہے۔سندھ حکومت کے آئندہ مالی سال کاکل بجٹ 963.34 ارب روپے کے قریب ہونیکاامکان ہے،غیر ترقیاتی اخراجات 572 اعشاریہ 76 ارب سے بڑھ کر آئندہ مالی 641.49 ارب جبکہ ترقیاتی اخراجات کا بجٹ 265.99ارب سے بڑھ کر 321.85 ارب روپے کی سفارشات دی گئیں۔خیبرپختونخواہ حکومت آئندہ مالی سال 574.54 ارب کے قریب ہونیکاامکان ہے،غیر ترقیاتی اخراجات کا بجٹ 333 ارب سے بڑھ کر 382.95 ارب کرنے کی سفارش کی گئی ہے،ترقیاتی اخراجات کا بجٹ 161ارب سے بڑھ کر 191.59ارب کی تجویز سامنے آئی ہے۔بلوچستان حکومت کا آئندہ مالی سال کا بجٹ 268.45 ارب روپے کا بجٹ کے حجم کا ہونے کا امکان ہے جس میںغیر ترقیاتی اخراجات کا بجٹ 184.76ارب سے بڑھ کر 195.85 ارب روپے کی سفارش کی گئی،بلوچستان میں ترقیاتی اخراجات کا بجٹ 71.18ارب سے بڑھ کر 72.61 ارب روپے رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بجٹ تجاویز کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس ہوا جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر تفصیلی غور کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں وزارت خزانہ اور دیگر اعلی حکام نے بجٹ 2017-18ءکی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی جبکہ وزیراعظم نے 4 سال کے دوران ہونے والی ترقی کور سراہا۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ انفراسٹرکچر، سماجی شعبے کی ترقی اور عوام کی بہتری حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سماجی شعبے کی بہتری کیلئے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں بجٹ حکمت عملی اس مقصد کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کا یہ بھی کہنا ہے کہ عام آدمی کا معیار زندگی اور معاشی حالت بہتر بنانا ہماری پہلی ترجیح ہے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر خزانہ30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں ملک کی معاشی کارکردگی کے بارے میں آج پریس کانفرنس میں اقتصادی سروے جاری کریں گے۔ وزیر خزانہ معاشی انڈی کیٹرز کے بارے میں بتائیں گے اور گزشتہ 4 سال میں معیشت کی ترقی کے بارے میں اعداد و شمار پیش کریں گے۔ واضح رہے کہ رواں مالی سال میں جی ڈی پی کا گروتھ ریٹ 5.28 فیصد رہا ہے جو گزشتہ 10 سال میں سب سے زیادہ ہے۔ تاہم بجٹ میں بیان کردہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت مسلسل چوتھے سال بھی جی ڈی پی کا گروتھ ریٹ کا ہدف حاصل نہیں کر سکی۔ زرعی سیکٹرز گروتھ 3.02 فیصد رہی، فشنگ 1.23 فیصد، لائیوسٹاک3.44 فیصد، گندم 0.53 فیصد کی شرح ترقی حاصل کر سکی۔ صنعتی سیکٹر کی شرح ترقی بھی حاصل نہیں ہو سکی۔ اس سیکٹر نے 5.02 کے تناسب سے شرح ترقی حاصل کی جبکہ ہدف 6.4 فیصد تھا۔ سروسز سیکٹر نے 5.7 فیصد کی شرح ترقی حاصل کی۔ مزید برآں ہاﺅس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس سپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا۔کمیٹی اجلاس میں قومی اسمبلی کا 43ویں اجلاس کے ایجنڈے اور اس کو بطوربجٹ اجلاس کے طور پر جاری رکھنے کے لئے ممبران سے رائے لی گئی۔ایڈوائزری کمیٹی میں اتفاق رائے سے فیصلہ کیاگیاکہ قومی اسمبلی کا 43واں اجلاس ہی بطور بجٹ اجلاس14جون 2017تک جاری رہے گا۔ بجٹ پر بحث کا آغاز 29مئی سے ہو گا۔کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق9جون کو وزیر خزانہ بجٹ پرعام بحث کو سمیٹیں گے جس کے بعد 2017-18کے مطالبات زر پر ووٹنگ ہو گی ۔ہاﺅس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے مطابق رمضان المبارک کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اجلاس کا ٹائم صبح 11بجے سے شام 5بجے تک ہو گااور ہفتے کے روز بھی اجلاس ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Education In Pakistan © 2016