Education In Pakistan

Papers, Notes, Books & Help For Students

UPDATED EDUCATIONAL NEWS INTERVIEW HELP FOR ALL JOBS ONLINE BOOKS SCHOLARSHIPS AVAILABLE INTERNSHIP JOBS

9th Class Islamiat Paper Short Questions Notes

9th Class Islamiat Paper Short Questions Notes
سورۃ انفال کی کتنی آیات ہیں ؟ اور کتنے رکوع ہیں ؟
سورہ انفال کے 10رکوع اور 75آیات ہیں ۔
سورہ انفال کونسی سورت ہے ؟
سورہ انفال مدنی سورت ہے ۔
اس سورۃ کو انفال کیوں کہا جاتاہے؟
انفال کا معنی ہے “مالِ غنیمت”اورچونکہ اس سور ت میں مالِ غنیمت کےاحکامات بیان ہوئے ہیں لہذا اسے انفال کے نام سے تعبیر کر دیا گیا۔
سورۃ انفال میں مؤمنوں کی کیا صفات بیان کی گئی ہیں ؟
1. جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل خوفِ الہٰی سے ڈر جاتے ہیں ۔
2. جب مؤمنین کے سامنےقرآن کی آیات کی تلاوت کی جائے تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے ۔
3. وہ اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔
4. وہ نماز قائم کرتے ہیں ۔
5. اللہ کے دیے ہوئے رزق سے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔
سورۃ انفال کی روشنی میں یَومُ الفُرقَان کی مختصر تشریح بیان کریں ۔
یوم الفرقان کا مطلب ہے حق و باطل کے درمیان فرق کا دن ۔اور اس سے مراد یومِ بدر کا دن ہے جب اللہ نے غزوہ بدر کے ذریعے مؤمنین اور کفار کے درمیان فرق کر دیا۔
دو گروہوں سے کیا مرادہے ؟
دو گروہوں سے مراد ابوسفیان اور ابوجہل کا گروہ مراد ہے ابوسفیان ملکِ شام سے آنے والے تجارتی قافلے کی قیادت کر رہا تھا جبکہ ابو جہل کا گروہ اس لشکر کا سپہ سالار تھا جو مدینہ کے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے مکہ سے روانہ ہوا تھا۔
غزوہ بدر میں مسلمانوں پرکن انعامات کا ذکر کیا گیا ہے ؟
1. اللہ نے مؤمنین پر تسکین کے لیے نیند طاری کی۔
2. بارش برسا کر پاکی کا ذریعہ بنایا۔
3. فرشتوں سے مسلمانوں کی مدد کی۔
4. کفار پر رعب اور دبدبہ ڈال دیا۔
کفار کے ساتھ مقابلے کی صورت میں سورہ انفال میں کیا ہدایات کی گئی ہیں ؟
مسلمانوں کو ہدایت کی گئی کہ کفار کے ساتھ مقابلے کی صورت میں پیٹھ نہ پھیریں اور ان سے ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے کیونکہ پیٹھ پھیرنے کی سزا جہنم ہے ۔پیٹھ پھیرنے کی صرف دو صورتوں میں اجازت ہے ۔
1: اپنے لشکر سے جا ملنے کے لئے ۔
2: کوئی جنگی چال چلنے کے لئے ۔
کفار کو خطاب کرتے ہوئے ان کیا ہدایات/تنبیہ کی گئی ہیں ؟
اللہ تعالی نے کفار کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام دشمنی اور مخالفت سے باز رہیں اور تم نے دوبارہ نافرمانی کی تو اللہ بھی تم کو دوبارہ عذاب دے گا اور تمہارا کوئی بڑا گروہ بھی اللہ کے عذاب سے تمہیں بچا نہیں سکتا کیونکہ اللہ ایمان والوں کے ساتھ ہے۔
سورۃ انفال میں خیانت سے کیا مراد ہے ؟
سورہ انفال میں دو قسم کی خیانت سے منع کیا گیا ہے۔
1. اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے خیانت سے مراد اللہ اور اسکےرسول ﷺ سے احکامات پر عمل نہ کرنا ۔
2. آپس کی خیانت سے مراد آپس کی ذمہ داریاں اوردوسرے کے مال و اسباب میں بے ایمانی کرنا ۔
کافروں سے کب تک قتال کا حکم دیا گیا ہے ؟
مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ کافروں سے قتال کیا جائے جب تک کہ ان کا فتنہ و فساد ختم نہ ہو جائے ۔
اِحْدَی الطَّآئِفَتَیۡنِ سے کیا مراد ہے؟
“دو گروہوں میں سے ایک” اور اس سے ابو سفیان کا تجارتی قافلہ مراد ہے جو ملک ِشام سے تجارت کر کے مکہ واپس آرہا تھا۔
شَرالدَوَآبَ سے کیا مرادہے ؟
شرالدوآب سے کا مطلب ہے “بدترین جانور” اور اس سے مراد وہ کفار ہیں جواسلام کی واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود ایمان نہیں لے کر آتے گویا ان میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔
غَیۡرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃ سے کیا مراد ہے ؟
غَیۡرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃ کا معنی ہے بغیر اسلحہ اور قوت کے ۔اور اس سے مراد ابو سفیان کا تجارتی قافلہ ہے۔
وَمَا کَانَ اللہ لِیُعَذبَھُم وَاَنتَ فِیھِم کی مختصر تشریح کریں ۔
ترجمہ : اور اللہ نہ تھا کہ ان کو عذاب دیتا اور آپ ﷺ ان میں موجود ہوں ۔
اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نافرمان قوم کو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک نبی آخرالزمان ان میں حیات ہیں ۔
اللہ نے سورہ انفال میں تقوی کے کن انعامات کا ذکر کیا ہے ؟
1. اللہ تعالی تقوی اختیار کرنے والوں کو ممتاز کر دے گا۔
2. اللہ متقین کی برائیوں کو مٹا دے گا۔
3. ان کو بخش دے گا۔
وَاِذ یمکُربِکَ الذین کفرو ا میں کس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ؟
اس واقعہ میں کفارِ مکہ کی اس چال کو بیان کیا گیا جو ہجرت ِ مدینہ سے پہلےنبی کریمﷺ کو قید کرنے یا قتل کرنے کی سازش کر رہے تھے۔
غزوہ بدر کب پیش آیا؟
غزوہ بدر 17رمضان 2ہجری کو پیش آیا۔
غزوہ بدر میں مسلمانوں اور کافروں کی تعدا د کتنی تھی؟
مسلمانوں کی تعداد 313 تھی جبکہ کفار کی تعداد 1000تھی۔
غزوہ بدر میں مسلمانوں پر نیند طاری کر دی گئی اور ان پر بارش برسائی گئی اسکی کیا وجہ تھی؟ یا سورہ انفال میں مسلمانوں پر کس کس خصوصی انعام و احسان کا ذکر کیا گیا ہے ۔
غزوہ بدر میں مسلمانوں پر نیند طاری کی گئی تا کہ ان کو تسکین ہو اور وہ تازہ دم ہو جائیں ۔اور بارش اس لئے برسائی گئی کہ غزوہ بدر میں پانی کے ذخیروں پر کفار کا قبضہ تھا اور مسلمانوں کو پانی کی ضرورت تھی تاکہ مسلمان نہا کر صاف ستھرے ہو جائیں ۔اور مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط کیا تا کہ وہ ثابت قدم رہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Education In Pakistan © 2016